مہر خبررساں ایجنسی نے ایکسپریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ پاکستان میں اہلسنت تحریک لبیک یا رسول اللہ نے رات گئے حکومتی وفد سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرنے کااعلان کردیا جبکہ فیض آباد دھرنے میں جاں بحق تحریک کے کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیاگیا۔ اطلاعات کے مطابق تحریک لبیک اور حکومتی ٹیم میں مذاکرات کامیاب ہوگئے۔ یہ مذاکرات 11 گھنٹے تک جاری رہے۔ دھرنا ختم کرنے کا اعلان پیر افضل قادری نے داتا دربار کے سامنے پریس کانفرنس میں کیا، انہوں نے کہا حکومت ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتی رہی ، تحریک لبیک کا دھرنا گیارہ دن سے جاری ہے، رہنما ایک لمحے کے لیے باہر نہیں گئے، حکومت کا خیال تھا چند لوگ ہیں، کچھ نہیں کرسکتے، جب تحریک لبیک نے احتجاج کا اعلان کیا ملک کے بیشتر حصے جام ہوکررہ گئے، حکومت مذاکرات کے لیے مجبور ہوگئی، راجہ ظفرالحق کی رپورٹ ہمارے حوالے کردی گئی ہے، لاؤڈ اسپیکرکے ذریعے چاروں اطراف اذان کی اجازت مل گئی ہے، مذاکرات میں طے پایا کہ رانا ثنااللہ تحریک کے رہنماوں کے سامنے پیش ہونگے۔ تحریک لبیک کے رہنما جو فیصلہ دینگے اس پر عمل کرینگے، حکومت مذاکرات نہ کرتی تو آج جمعہ کے دن پورے ملک میں بھرپور احتجاج ہوتا۔ دوسری جانب علامہ خادم حسین رضوی نے بھی دھرنے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ساتھ دینے والوں کا شکریہ ادا کیا۔
پاکستان میں اہلسنت تحریک لبیک یا رسول اللہ نے رات گئے حکومتی وفد سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کرنے کااعلان کردیا جبکہ فیض آباد دھرنے میں جاں بحق تحریک کے کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیاگیا۔
News ID 1880023
آپ کا تبصرہ